Tuesday, 8 November 2016

"Magarmach K Aansu By" Muhammad Abdhu

Via Insaf Blogs
سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ کر وزیراعظم آبدیدہ ہوگئے۔
غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس نے اپنا دل کا آپریشن قوم کے خرچ پر لندن سے کروایا تھا۔ غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس کا وزیراعلی بھائی اپنے دل کے چیک اپ کیلے قوم کے خرچ پر ہر مہینہ لندن جاتا ہے۔ غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس کی بیوی کندھے کی درد کا علاج کروانے قوم کے خرچ پر لندن جاتی ہے۔ غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس کی بیٹی پاؤں کی موچ کا علاج کروانے قوم کے خرچ پر لندن گئی تھی۔ غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس کی حکومت نے اپنے وزیروں مشیروں کو باہر علاج کروانے کیلے سالانہ 17 کروڑ روپے جاری کیے۔ غریبوں کے دکھ دیکھ کر ایک ایسا وزیراعظم آبدیدہ ہوگیا جس نے 1981 سے ابتک اپنے اور خاندان کے بیرون ملک علاج پر قوم کا اتنا پیسہ استعمال کیا ہے جس سے اعلی معیار کا دل کا ایک ہسپتال بن سکتا تھا۔

میں نہیں مانتا وزیراعظم آبدیدہ ہوئے تھے وزیراعظم نے یہ ڈرامہ اور تماشا کیا تھا۔ اگر یہ آنسو سچے تھے تو لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے پر 28 بندے مر گئے اور لیہ سپتال مین علاج کی سہولت نہیں تھیں۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ جنرل ہسپتال میں ٹانکے لگانی کی مشینیں خراب تھیں۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ لاہور کے کسی بھی ہسپتال میں کالے یرقان اور بون سکین ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں تھے۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ پمز ہسپتال کے 46 کروڑ نجی اکاؤنٹ میں رکھ کر منافع کمایا گیا تھا وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ بہاولنگر سرکاری ہسپتال میں 18022 بچے علاج میسر نا ہونے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ فیصل آباد کے سول و آلائیڈ ہسپتال میں نو ماہ کے دوران 2298 بچے وینٹی لیٹر نا ہونے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ میو ہسپتال میں دل جگر گردہ ڈینگی ہیپاٹائٹس کی ایکسپائرڈ دوائاں چھ ماہ تک استعمال ہوتی رہیں۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور سالانہ پانچ لاکھ نئے مریضوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ چلڈرن ہسپتال کی وینٹی لیٹر خراب ہونے سے 8 بچے دم توڑ گئے تھے وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ دنیا بھر کے انسانی اعضاء کی فروخت کا 85 فیصد کاروبار پاکستان میں ہورہا ہے۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ فیصل آباد کے ہسپتالوں میں گردہ کی دوائیوں تین ماہ تک ختم رہیں وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ شاہکوٹ کے قریب ویب حادثے میں پندرہ افراد جل گئے۔ فیصل آباد و شیخورپورہ ہسپتالوں میں برن یونٹ خراب تھے اور لاہور پہنچتے پہنچتے بارہ افراد مر گئے۔ وزیراعظم اس وقت آندیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ 

پولی کلینک ہسپتال میں 3000روہے والا آکسیجن سلنڈر 22000روہے میں بیچا جاتا رہا۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ پنجاب کے ہسپتالوں کیلے خریدی گئی 67 فیصد ادویات جعلی و ناقص تھیں۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔ وزیراعظم اس وقت آبدیدہ کیوں نہیں ہوئے تھے۔

یہ صرف پچھلے تین سال کے محکمہ صحت کی خبریں ہیں۔ دوسرے محکموں اور ان میں ہونے والی کرپشن بتانے کو ایک پوری کتاب چاہیے۔ عوام کو یہ بات اچھی جان لینی چاہیے کہ یہ آنسو دکھ درد کے نہیں مگرمچھ کے آنسو تھے۔

Thursday, 6 October 2016

"محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ اپنی خاندانی اقدار کا زکر نا کریں تو اچھا ہے۔" By Muhammad Abdhu

Via Insaf Blogs

محترمہ مریم صفدر صاحبہ ۔ اپنی خاندانی اقدار کا زکر نا کریں تو اچھا ہے۔
آپ کہتی ہیں لوگوں کو ہماری خاندانی اقدار معلوم نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستان میں دو ہی تو خاندان ہیں جن کی خاندانی اقدار بارے لوگ سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ اگر بقول آپ کے لوگ نہیں جانتے تو پھر خود سے کچھ بتانے کی گوہر افشانی بھی کردیتی تاکہ لوگ آپ کی خاندانی اقدار جان لیتے۔ پتہ نہیں آپ کس خاندانی اقدار کی بات کررہی ہیں جو آپ نے دنیا سے چھپائی ہوئی ہیں۔ اگر اپنی خاندانی اقدار آپ خود نہیں بتائیں گی تو پھر لوگ وہ بیان کریں گے جو حقیقت اور سچ ہے۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کی خاندانی اقدار تو یہ ہیں کہ آپ کا خاندان پاکستان کے سب سے جھوٹے خاندان کا اعزاز حاصل کرچکا ہے۔ اور یہ واحد خاندان ہے جس کا ہر فرد ایک دوسرے کو ہی جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا آپ نہیں جانتی آپ کے خاندان نے پاکستان کے سب سے بڑے کرپٹ چور اور ملکی خزانہ لوٹنے والے خاندان کا اعزاز اپنے نام کیا ہوا ہے۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کی خاندانی اقدار تو یہ ہیں آپ کے ابو جان میاں نواز شریف جب وزیراعظم ہوتے ہیں تب شمشاد بیگم کو گانے سناتے ہیں۔ طاہرہ سید کو پٹریاٹہ چئیرلفٹ کا تحفہ دیتے ہیں۔ امریکی خاتون صحافی کو شرمناک پیشکش کرتے ہیں۔ جب مشرف نے آپ کے ابو جان کی حکومت ختم کی تو ان کے کمروں سے وہ اشیاء برآمد ہوئیں جن کی لسٹ آپ کا درباری صحافی صالح ظافر تفصیل سے شائع کرچکا ہے۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کی خاندانی اقدار تو یہ ہیں کہ آپ کے چچا میاں شہباز شریف صاحب کا پسندیدہ کام دوسروں کی بیویوں کو طلاق دلوا کر زبردستی نکاح کرنا ہے۔ اوکاڑہ کے سابق ڈی پی او کی بیوی ہو یا مس تہمینہ جسے آج تک آپ کے خاندان نے قانونی بیوی تسلیم نہیں کیا۔ یا عالیہ بی بی ہو جس کی یاد میں کیولری پل کو ہنی پل کا نام دیا جاتا ہے۔ یا پھر جدہ میں فلپائنی آیا جسے خاندانی دباؤ پر چھوڑنا پڑا۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کی خاندانی اقدار تو یہ ہیں کہ آپ کے سگے بھائی حسین نواز جدہ میں اپنے بچوں کی ٹیچر سے خفیہ شادی کرتے ہیں۔ اور اس بیوی کو آج تک خاندان نے تسلیم نہیں کیا۔ آپ کے چچا زاد حمزہ شہباز کی ایک شادی کی قانونی جنگ اور متاثرہ بیوی کی پریس کانفرنسوں کی خاندانی اقدار تو زبان زد عام ہیں۔ رائے ونڈ روڈ پر ٹھوکر سے زرا آگے وہ گھر بھی بہت سارے صحافی جانتے ہیں جہاں آپ کے چچا اور چچازاد اکثر آتے رہتے ہیں۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کی خاندانی اقدار میں تو آپ کا نام بھی آتا ہے۔ کیا آپ بھول گئی ہیں۔ آپ کے چچا شہباز شریف اور امی جان کلثوم نواز کے درمیان آپ کے متعلق ایک تاریخی مکالمہ ادا ہوا تھا۔ جس میں چچا شہباز شریف نے ایک پستول اور ایک گولی کا زکر کیا تھا جبکہ امی جان کلثوم نواز نے ایک پستول دو گولیوں کا زکر کیا تھا۔
محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ یہ نوے کی دہائ نہیں ہے جب آپ کا خاندان الفاظ کی جادوگری سے عوام کو بیوقوف بنا لیتے تھے۔ یہ تبدیلی اور شعور کا دور ہے۔ اب آپ کے الفاظ ادا ہوتے ہی لوگ نیٹ پر تاریخ کھنگالنے جُت جاتے ہیں۔ محترمہ مریم صفدر صاحبہ۔ آپ کو ایک مشورہ ہے اپنی خاندانی اقدار کا شوشا نا چھوڑا کریں اور اگر زیادہ شوق ہو تو پھر اپنی من پسند تفصیل بھی بیان کیا کریں۔